aristolochic 113

ایشیا میں لوگوں کو جگر کا کینسر سب سے زیادہ اس وجہ سے ہوتا ہے

نیویارک(خبر کی دنیا) دیسی طریقہ علاج ایشیاءمیں آج بھی بہت مقبول ہے جس میں جڑی بوٹیوں سے بنی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اب سائنسدانوں نے اس طریقہ علاج کے متعلق حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ ویب سائٹ pri.org کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ایشیاءمیں جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے کا روایتی طریقہ ہے۔ ان جڑی بوٹیوں میں سے کئی کا تعلق پودوں کی Aristolochiaفیملی سے ہے جن میں اریسٹولوچک ایسڈ (Aristolochic acid)پایا جاتا ہے۔ یہ تیزابی مادہ ایشیاءکے لوگوں میں جگر کے کینسر کا سبب بن رہا ہے۔“

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق میں کئی ایشیائی ممالک کے جگر کے کینسر کے مریضوں پر تجربات کیے۔ انہوں نے تائیوان کے ہسپتالوں میں موجود جگر کے کینسر کے 98مریضوں کے ٹیسٹ کیے، جن میں معلوم ہوا کہ ان میں سے 78فیصد مریض اسی خطرناک تیزابی مواد کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہوئے تھے۔سائنسدانوں نے چین میں بھی 89جگر کے کینسر کے مریضوں پر تجربات کیے۔ ان میں بھی 47فیصد میں کینسر کی وجہ یہی خطرناک کیمیکل تھا۔ اس کے علاوہ ویت نام میں 26مریضوں میں سے 19فیصد اور جنوبی ایشیاءکے ممالک کے مریضوں میں سے 56فیصد کو کینسر لاحق ہونے کی وجہ یہی تیزابی مادہ تھا۔

ادرک کو اس طریقے سے استعمال کریں تو پیٹ کی چربی دنوں میں پگھل جائے گی

حوالہ

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں